Search
 
Write
 
Forums
 
Login
"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: Sami_Malik
Full Name: Sami Malik
User since: 14/Oct/2006
No Of voices: 1657
 
 Views: 637   
 Replies: 0   
 Share with Friend  
 Post Comment  

تجھے اب کہاں ڈھونڈوں!

آج مغرب کی تقلیدمیں ہمارے ہاں بھی ’’مدرڈے‘‘منانے کی رسم زورپکڑتی چلی جارہی ہے اوراگرکوئی اس کی وجہ تسمیہ سمجھانے کی کوشش کرے تواس کاجواب ملتاہے کہ ’’آخر ماں سے محبت کادرس ہی تودیاجارہاہے ‘‘ ۔دراصل ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہماراتوہرلمحہ  ہماری ماں کامقروض ہے توپھریہ قرض صرف سال بھرکے بعدایک دن منانے سے اتارنے کی ناکام کوشش کیوں کیاجاتی ہے۔دراصل مغرب میں ماں باپ پہلے تواولادکے ہوتے ہوئے تنہائی کاشکارہوجاتے ہیں اورجب بیمارہوجائیں یابوڑھے ہوجائیں توان کاٹھکانہ’’نرسنگ ہوم ‘‘یا’’اولڈ ہوم‘‘ ہوتاہے۔اولادکی ان بوڑھے ماں باپ کی طرف توجہ دلانے کیلئے سال میں ایک دن محض اس لئے منایاجاتاہے  کہ اسی بہانے کچھ توپھولوں کا کاروبارچمک اٹھے گایاپھرتحفے تحائف کی خریدوفروخت سے کاروباری حضرات کی دکانیں چلتی رہیں گی۔مجھ آج کچھ اورتحریرنہیں کرنا۔مجھے صرف یہ دوچھوٹی چھوٹی کہانیاں آپ کی خدمت میں پیش کرنی ہیں جومجھے میرے قارئیں میں سے کسی نے مجھے بھیجی ہیں جنہوں نے مجھے اندرسے توڑپھوڑکررکھ دیاہے۔ان کو بغورپڑھیں توپھرفیصلہ کریں کہ کیاان کی عظمت کوسلام کرنے کیلئے سال کاایک دن کافی ہے یاساری عمرناکافی ہے؟فیصلہ آپ پرچھوڑتا ہوں!

پہلی کہانی!   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار حلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ حلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو ۔اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔
امّاں جب بھی بازار جاتیں توغفوردرزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی  ہوشاعری پر سر رکھ کے ۔‘
عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ الوداع کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔
آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔
چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔
پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔
پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کوپٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اورمہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندریاریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔
بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!
ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔
کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔
تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ 
خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔

دوسری کہانی

ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ اﺳﮑﻮﻝ ﮐـــﮯ كيفتيرﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻧﺴﺎﻣﮧ تھی ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧﺳـــﮯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور ﺍُﺱ ﺳـــﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻼﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﯿﺮﯾﺖ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﺮﻧـــﮯ ﺁﺋﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﻠﻤﻼﯾﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﻮﻣﺠﮭـــﮯ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮐﺮﻧـــﮯ ﮐﯽ ﺟُﺮأﺕ ﮐﯿﺴـــﮯ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺍُﺱ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮐـــﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟﺍُﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻻﭘﺮﻭﺍﮨﯽ ﺑﺮﺗﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺳـــﮯ ﺣﻘﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳـــﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎرہا۔
ﺍﮔﻠـــﮯ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ ﮨﻢ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﻧـــﮯ ﻣﺠﮫ ﺳـــﮯ ﮐﮩﺎ ’’ﺍﻭﮦ ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏﺁﻧﮑﮫﮬـــﮯ ‘‘۔ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﮐـــﮯ ﻧﯿﭽـــﮯ ﺩﮬﻨﺲ ﺟﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟﻧـــﮯ ﻣﺎﮞﺳـــﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠـــﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺎﮞ ﺳـــﮯ ﮐﮩﺎ “ ﻣﯿﮟﺗﻤﮩﺎﺭیﻭﺟﮧ ﺳـــﮯ اﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﺍﻕ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﮞ ۔ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ؟ ” ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﻧـــﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ۔ ﻣﺠﮭـــﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﮐـــﮯ ﺭﺩِ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﺌـــﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﮩﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔
ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻨﺖ ﮐـــﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺭﮨﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣُﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﻭﻇﯿﻔـــﮧﮐﯿﻠﺌـــﮯﻭﻇﯿﻔﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ۔ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻧـــﮯ ﮐـــﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧـــﮯ ﺍﺳﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﯽ ﺍﻭﺭﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﮐـــﮯ ﺭﮨﻨـــﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻠﻨـــﮯ ﺁ ﮔﺌﯽ ۔ ﺍُﺳـــﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﺑﻨﻨـــﮯ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ۔ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐـــﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﺭﮨﯽﺍور ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽـــﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻣﺬﺍﻕ ﺍُﮌﺍﺗـــﮯ ﺭﮨـــﮯ ۔
وه چپ چاپ سنتي رهي پهرﻣﯿﮟ ﻣﺎﮞ ﭘﺮ ﭼﯿﺨﺎ ” ﺗﻢ ﻧـــﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺁ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ڈﺭﺍﻧـﮯﮐﯽ ﺟُﺮأﺕ ﮐﯿﺴـــﮯ ﮐﯽ ؟ ” ﺑﮍﯼﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳـــﮯ ﺍُﺱ ﻧـــﮯ ﮐﮩﺎ’’ﻣﻌﺎﻓﯽ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ ۔ ﻣﯿﮟﻏﻠﻂ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ‘‘ﺍﻭﺭ وه ﭼﻠﯽﮔﺌﯽ ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣُﺠﮭـــﮯ ﺍﭘﻨـــﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﮐـــﮯ ﺷﮩﺮ ﺳـــﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﺕ ﻧﺎﻣﮧﻣﻼ ﺟﻮﻣﯿﺮﮮ اﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬـــﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐـــﮯ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧـــﮯﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳـــﮯ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻻ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﺘﺮ ﮐـــﮯ ﮐﺎﻡ ﺳـــﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ۔ اﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱﻣﺠﻠﺲ ﮐـــﮯﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮﺍ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻣﮑﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎﺑﭽﭙﻦ ﮔﺬﺍﺭﮦ ۔ ﻣﺠﮭـــﮯ
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺮﺍﻧـــﮯ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﻧـــﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﮞ ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮬـــﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣُﺠﮭـــﮯﮐﻮﺋﯽﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮨﻮﺍ ۔ ﮨﻤﺴﺎﺋـــﮯ ﻧـــﮯ ﻣﺠﮭـــﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻨﺪ ﻟﻔﺎﻓـــﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻂ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﻣﺎﮞﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮﻟﺌـــﮯ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺩﻝِ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﻟﻔـــﺎﻓﮧ ﮐﮭﻮﻝ ﮐﺮ ﺧﻂ ﭘﮍﮬﻨـــﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ

“ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩـــﮯ ۔ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗُﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎ ﺭﮨﺎ ۔ ﻣُﺠﮭـــﮯ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮬـــﮯﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻢ ﻣُﻠﮏ ﺳـــﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺭﮨﺎﺋﺶ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﭼﮑـــﮯ ﺗﮭـــﮯ ﺗﻮﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺭﺍ ﮐﺮﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﯿﺰﺍﺭ ﮐﯿﺎ ۔ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـــﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺗﻢﺍﭘﻨـــﮯ اﺳﮑﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﺠﻠﺲ ﻣﯿﻦ ﺷﻤﻮﻟﯿﺖ ﮐﯿﻠﺌـــﮯﺁﺅ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺑﺎﻍ ﺑﺎﻍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣُﺸﮑﻞ ﺻﺮﻑ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﺳـــﮯ ﺍُﭨﮫ ﻧﮧ ﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﯽ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﯿﺰﺍﺭﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭨُﻮﭦﺟﺎﺗﺎ ﮬـــﮯ ۔ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺟﺎﻧﺘـــﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺗﻢ  ﺑﮩﺖ ﭼﮭﻮﭨـــﮯ ﺗﮭـــﮯ تب ﺍﯾﮏ ﺣﺎﺩﺛﮧﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﺎﺅﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨـــﮯ ﺟﮕﺮ ﮐﮯﭨﮑﮍﮮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﮐـــﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﭘﻠﺘﺎ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻃﻌﻨـــﮯ ﺳُﻨﺘﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮫﺳﮑﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔ تو ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺩﯼ ۔ ﺟﺐ ﺟﺮﺍﺣﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺮ ﻓﺨﺮ ﺳـــﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ كيو نکہ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﺑﻦﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺳـــﮯ ﺩﯾﮑﮭـــﮯ ﮔﺎ ۔
بے ﺍنتہا ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐـــﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ”

 

سورۃ الاسراﺀ/بنی اسرائیل آیات ۲۳ و۲۴

ﺍﻭﺭ ﺁﭖﮐـــﮯ ﺭﺏ ﻧﮯ ﺣﮑﻢ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺎ ﮬـــﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﷲ ﮐـــﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭﻭﺍﻟﺪﯾﻦﮐـــﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺴﻦِ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨـــﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳـــﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞﺑﮍﮬﺎﭘـــﮯ ﮐﻮ ﭘﮩﻨـﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ”ﺍُﻑ “ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﮭﮍﮐﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟﺍﻭﺭ ﺍﻥﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐـــﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮍﮮ ﺍﺩﺏ ﺳـــﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐـــﮯ ﻟﺌـــﮯ ﻧﺮﻡﺩﻟﯽ ﺳـــﮯ ﻋﺠﺰ ﻭ ﺍﻧﮑﺴﺎﺭﯼ ﮐـــﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺟﮭﮑﺎﺋـــﮯ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ[ﷲ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ‏] ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗـــﮯﺭﮨﻮ ۔ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ۔ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﻓﺮﻣﺎ ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧـــﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭـــﮯ ‏[ ﺭﺣﻤﺖ ﻭ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ‏] ﭘﺎﻻ ﺗﮭﺎ

 

 No replies/comments found for this voice 
Please send your suggestion/submission to webmaster@makePakistanBetter.com
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution