Search
 
Write
 
Forums
 
Login
"Let there arise out of you a band of people inviting to all that is good enjoining what is right and forbidding what is wrong; they are the ones to attain felicity".
(surah Al-Imran,ayat-104)
Image Not found for user
User Name: Asma1
Full Name: Asma Tariq
User since: 13/Nov/2018
No Of voices: 25
 
 Views: 299   
 Replies: 0   
 Share with Friend  
 Post Comment  

کمپیوٹر اور استاد کا کیا مقابلہ  

 

اسماء طارق 

گجرات

 

 

 اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دور سب سے تیز رفتار اور ترقی یافتہ دور ہے اور یہ ساری ترقی  ٹیکنالوجی کے مرہون منت ہے اور یہاں کمپیوٹر کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ جہاں پہلے کسی معلومات کیلئے کئی کتابوں کو کھوجنا پڑتا تھا اب وہیں ایک کلک پر ساری معلومات آپ کے سامنے جن کی طرح حاضر ہو جاتی ہے اور آپ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں ۔ ہر شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے تجربہ کار افراد کی رہنمائی صرف سرچ کے ایک کلک پر موجود ہے ۔ سوشل میڈیا رابطے کا آسان  اور سستا ذریعہ ہے ،آپ جہاں اور جس جگہ بھی ہوں وہیں سے میلوں دور بیٹھے افراد سے نہ صرف بات کر سکتے بلکہ انہیں دیکھ بھی سکتے ہیں اور جب چاہیں اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کریں گویا کہ فاصلے سمٹ گئے ہیں اور دوریاں ختم ہو گئی ہیں ۔اب آپ کے لیے  کسی بھی چیز تک رسائی حاصل کرنا قططا مشکل نہیں رہا ہے مگر اس سب کے باوجود  کمپیوٹر استاد کا نعم البدل نہیں ہو سکتا ہے  ۔ بےشک  آپ کو  کمپیوٹر کی مدد سے ہر طرح کی معلومات تو ایک کلک پر میسر ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ یہ معلومات صحیح اور درست بھی ہو۔ کمپیوٹر ہمیں  معلومات کو دے سکتا ہے مگر صحیح اور غلط کی تمیز نہیں سکھا سکتا ہے جو استاد ہمیں سکھاتا ہے ۔کمپیوٹر  انسان کو ذہین تو بنا سکتا ہے مگر اس کی تربیت نہیں کرسکتا ہے  ۔گویا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے کمپیوٹر کتنی ہی جدت اختیار کیوں نہ کر لے مگر استاد کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہےکیونکہ  استاد آپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات سے سکھاتا ہے جبکہ  کمپیوٹر کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں ہے جہاں وہ اچھائی برائی کی پرکھ کر سکے ۔ استاد آپ کو ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے جبکہ کمپیوٹر صرف سکرین دکھا سکتا ہے اور کمپیوٹر تو بجلی اور انٹرنیٹ کا محتاج ہے  ۔    استاد آپ  کی ذندگی میں بہت اہمیت کا حامل  ہوتا ہے شاید ہی ماں باپ کے علاوہ کوئی ذات آپ کی ذات پر اتنا اثر رکھتی ہے جتنا استاد رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ اپنے  استاد کی طرح بننے کی کوشش کرتے تھے ،ہم ان کے  جیسا دکھنا چاہتے تھے ۔ استاد کا کردار ہمیشہ  سے آپ کی زندگی کا اہم جزو ہوتا ہے  اور یہ کردار آپ کی ذات سے جھلکتا بھی ہے کیونکہ  استاد ہمیں صرف پڑھاتے ہی نہیں ہیں  بلکہ وہ ہماری ذات کی تشکیل بھی کر رہے ہوتے  ہیں اسی لیے تو استاد کا مقام بہت بلند ہے ۔مگر ہماری بدقسمتی  ہے کہ ، ٹیچنگ کے شبعے میں جتنا ظلم اب ہو رہا ہے  شاید ہی پہلے کبھی ہوا ہو ۔۔ ہمارا استاد  کورس، بچوں کے بھرمار  اور مہنگائی میں پس رہا ہے بچہ نمبروں کے پیچھے بھاگ رہا ہے اس ڈور میں  نہ کوئی کچھ سکھا پا رہا ہے اور نہ کوئی سیکھنا چاہتا ہے  جبکہ ہم دکھتے ہیں کہ  دنیا کے ہر ملک میں استاد سے زیادہ کسی شخص کا پروٹوکول نہیں ہے  اور ہمارے ملک میں استاد پستی کے انتہائی درجے پر ہے اسی لیے تو یہاں کوئی اپنی مرضی سے استاد نہیں بننا چاہتا ہے جس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا وہ اس شعبے کی طرف آ جاتا ہے اور صد افسوس کہ ہمیں ہمارے ٹیچر سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ کبھی استاد نہ بننا  بڑی ذلالت ہے  ۔ یہاں یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک مفلوج قوم پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ قوم  استاد کی اہمیت کو سمجھ نہیں پا رہی ہے جبکہ استاد ہی وہ ذات ہے جو پوری قوم کو بناتا ہے اور اسے تشکیل کرتا ہے  ۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ میڑک تک ہم سوال سے بھاگتے ہو اور اگر کبھی کر دو تو  سب آپ کو  ایسے دیکھتے ہیں  جیسے کوئی پاگل ہو اور پھر زندگی ہمیں ٹھوکریں مار کر سب سکھاتی ہے ۔ جب تک ہم استاد کے وقار کو معاشی اور معاشرتی ہر لحاظ سے بلند  نہیں کرتے  ہم یونہی  پستے رہیں گے کیونکہ استاد ایک ایسی نعمت ہے جسکا کوئی نعمت البدل نہیں ہے   ۔

 

 

 No replies/comments found for this voice 
Please send your suggestion/submission to webmaster@makePakistanBetter.com
Long Live Islam and Pakistan
Site is best viewed at 1280*800 resolution